22 جنوری 2015 - 12:20
 اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایران اور حزب اللہ کی رہبری میں شیعی اسلام ہے

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے چند روز پہلے المیادین چینل کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حزب اللہ کے پاس کافی عرسے سے فاتح ۱۱۰ نام کا میزائل موجود ہے ۔لیکن اس سے ان کی مراد کیا تھی ؟ اور حزب اللہ کے پاس کون سا نیا ہتھیار ہے ؟ یہی وہ چیز ہے کہ چند دنوں سے صہیونی ذرائع ابلاغ جس میں الجھے ہوئے ہیں ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے چند روز پہلے ایک انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حزب اللہ کے پاس کافی عرسے سے فاتح ۱۱۰ نام کا میزائل موجود ہے ۔لیکن اس سے ان کی مراد کیا تھی ؟ اور حزب اللہ کے پاس کون سا نیا ہتھیار ہے ؟ یہی وہ چیز ہے کہ چند دنوں سے صہیونی ذرائع ابلاغ جس میں الجھے ہوئے ہیں ۔

پچھلے ددنوں سے سید حسن نصر اللہ کے بیانات اور ان کی دھمکیاں تمام عربی ذرائع ابلاغ کے خبری اور تحلیلی حصوں پر سایہ فگن ہیں۔روزنامہ بدیعوت احرونوت نے اپنے تازہ شمارے میں تاکید کی ہے کہ اسرائیلی فوج کی جاسوسی مشینری نصر اللہ کی ان باتوں سے کہ ان کے پاس جدید اور بھاری ہتھیار منجملہ فاتح ۱۱۰ ہیں غافل نہیں ہے ایسے ہتھیار کہ جو اس روزنامے کے بقو ل اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں منجملہ حیفاء میں موجود اس کی تیل کی تصفیہ گاہیں اور وزارت دفاع کی عمارت کہ جو تل ابیب میں ہے اور شمال کے ہوائی اڈے اور اسرائیل کے مرکز کے لیے ۔

بدیعوت احرونوت کے بقول ان میزائلوں کی ایک الگ خصوصیت بھی ہے اور وہ یہ کہ دور ترین مقام سے ان کے داغے جانے کا امکان ہے یعنی شمال لبنان سے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کی ہوائی فوج اس تک پہنچنے کے لیے اور ان کے مخازن یا لانچرز کو تباہ کرنے کے لیے مشکل سے روبرو ہو گی ۔

اس صہیونی روزنامے کی تحریر کے مطابق فاتح ۱۱۰ میزائل کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ آہنی گنبد کا سسٹم اس کے راستے کا پتہ لاگانے پر قادر نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نوعیت کے میزائل بہت دور سے داغے جاتے ہیں اور انتہائی پھرتی کے ساتھ اپنے مقصد تک پہنچ جاتے ہیں ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نصر اللہ نے اس اعلان کے ذریعے کہ فاتح ۱۱۰ ایک عرصے سے ان کے پاس ہے کچھ اور بتانا چاہتے ہیں مثلا یہ کہ اس وقت ان کے پاس جدید ترین ہتھیار موجود ہیں یا یہ کہ وہ ہوائی جنگی ہتھیاروں کے مرحلے سے گذر کر زمینی جنگ کے مرحلے کے ہتھیاروں تک پہنچے ہوئے ہیں ۔ اگر چہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بطور مستقیم اس کی جانب اشارہ کریں ۔

صہیونی ریاست کی فوجی مشینری بھی سید حسن نصر اللہ کے بیانات کے بارے میں تحقیق اور اظہار خیال میں مشغول ہے ۔اسی سلسلے میں اسرائیلی چیف آف آرمی کے نئے منصوب شدہ نائب (پائیر گولان) نے ایران اور حزب اللہ کے ریڈیکل اسلام کے بارے میں خبر دار کرتے ہوئے اسرائیل کے لیے اس کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ۔

گولان نےکہ جو اسرائیلی فوج کے شمالی علاقے کے افسروں کے مجمعے سے اور لبنان اور شام کے محاذ کے حالات کی تحلیل اور ان سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں بات کر رہا تھا یاد دلایا : شمالی علاقے میں جو خطرات ہیں وہ ہر خطرے سے زیادہ شدید ہیں ۔اور یہ مسئلہ بہت واضح ہے ۔اور یہی چیز ہم پر واجب کرتی ہے کہ ہم انتہائی قوی ،محتاط اور مستحکم ارادے پر مبنی تدبیریں اختیار کریں۔

صہیونی فوج کے اس اعلی افسر نے اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ اسرائیل کے سامنے سب سے اہم اور کاری خطرہ حزب اللہ اور ایران کی دھمکی ہے مزید کہا : البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہماری توجہ دیگر خطروں پر نہ رہے ۔اگر چہ داعش ابھی ہماری سرحدوں سے دور ہے اس کے باوجود اس نے یاد دلایا : شام کے محاذ پر جو خطرے ہیں ان کےبارے میں ہمیں خودکو بڑا نہیں سمجھنا چاہیے اس لیے کہ ہمارے لیے بنیادی خطرہ بالکل پہلے کی طرح ایران اور حزب اللہ کی رہبری میں شیعی اسلام ہے ۔ صہیونی حکومت کی ایک اور خبر میں اسرائیلی فوج کے اطلاع رسانی کے سرکاری دفتر نے شمالی محاذ پر اسرائیلی فوج کے ایک پلاننگ آفیسر کی تقریر کا ایک حصہ نشر کیا ،اسرائیل کے اس سرکاری دفتر کی رپورٹ کے مطابق اس نے اپنی تقریر کے ایک حصے میں تاکید کی : فوج اچھی طرح جانتی ہے کہ لبنان میں حزب اللہ غزہ کی جنگ کے تمام پہلووں کی جانچ پڑتال میں مشغول ہے تا کہ اس سے لازمی نتائج اور سبق حاصل کیے جا سکیں ،اس نے اس کے بعد مزید کہا : حزب اللہ اس کے باوجود کہ ایک فوجی ڈھانچے کی طرح عمل کرتا ہے جو کسی حد تک ایک کلاسیک فوج کے مانند ہے لیکن اس کا ایک سیاسی رجحان ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اپنے جنگی ہتھیاروں کو ہر ممکن طریقے سے اسرائیل کے اندر پہنچائیں ۔

اس اسرائیلی افسر نے حزب اللہ کو ایک پیغام دیتے ہوئے کچھ چیزوں سے خبر دار کرنے کے ضمن میں کہ اس کے بقول اسرائیل جن کو برداشت نہیں کر سکتا اور ان کی وجہ سے ایک وسیع پیمانے کی جنگ چھڑ سکتی ہے اپنی بات جاری رکھی :فوج ایسے تمام امکانات کا جائزہ لے گی کہ جن کی وجہ سےحزب اللہ کے ساتھ جنگ چھڑنے کا امکان ہے،جیسے شمالی شہروں پر میزائلوں کی بارش ،یا سرحدی پٹی کے نزدیک حزب اللہ کے جنگجووں کا وسیع پیمانے پرحملہ یا شمال کے کسی ایک شہر میں گھس پیٹھ پر مبنی کاروائی ،

اسرائیلی فوج کے ایک اور اعلی افسر نے بھی اپنی ایک تقریر میں کہ وہ بھی اسرائیلی فوج کے سرکاری دفتر کی طرف سے نشر کی گئی تاکید کی کہ بہتر ہے کہ اسرائیل والے جان لیں کہ جو کچھ انہوں نے غزہ کی پٹی کی حالیہ جنگ میں دیکھا اس کا حزب اللہ کے ساتھ در پیش جنگ میں جو وہ دیکھے گی کوئی مقایسہ نہیں کیا جا سکتا ۔اس نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں مزید کہا : فوج کے پاس کوئی جادوئی راہ حل نہیں ہے ۔اسی وجہ سے جس چیز نے فوجی کمانڈروں کے ذہن کو مشغول کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسرائیلی حزب اللہ کے ساتھ درپیش جنگ میں آسودہ خیالی کے ساتھ پیش آئیں ،ایسا کرنا اشتباہ ہو گا چونکہ اس بار ہمیں ایک بڑے اور الگ نوعیت کے چیلینج کا سامنا ہے ۔

.......

/169